Sunday, 9 January 2022

طاق راتوں میں وہ نہیں آئی

طاق راتوں میں وہ نہیں آئی

میرے ہاتھوں میں وہ نہیں آئی

اچھی بیٹی ہے اپنے بابا کی

میری باتوں میں وہ نہیں آئی

روڈ پر پھول ورنہ آ جائیں

سرخ کپڑوں میں وہ نہیں آئی

میں نے دیکھا تھا اس کو بچپن میں

مڑ کے گاؤں میں وہ نہیں آئی

معذرت لاکھ بار کی، لیکن

پھر سے بانہوں میں وہ نہیں آئی


محسن ظفر ستی

No comments:

Post a Comment