طاق راتوں میں وہ نہیں آئی
میرے ہاتھوں میں وہ نہیں آئی
اچھی بیٹی ہے اپنے بابا کی
میری باتوں میں وہ نہیں آئی
روڈ پر پھول ورنہ آ جائیں
سرخ کپڑوں میں وہ نہیں آئی
میں نے دیکھا تھا اس کو بچپن میں
مڑ کے گاؤں میں وہ نہیں آئی
معذرت لاکھ بار کی، لیکن
پھر سے بانہوں میں وہ نہیں آئی
محسن ظفر ستی
No comments:
Post a Comment