Sunday, 9 January 2022

جھوٹ قصے میں ڈالنا ہے مجھے

 جھوٹ قصے میں ڈالنا ہے مجھے

کوئی رستہ نکالنا ہے مجھے

آنکھ سے نور کِھنچ گیا تو کیا

خواب تیرا سنبھالنا ہے مجھے

یعنی شرطوں پہ فیصلہ ہو گا

یعنی، سِکہ اچھالنا ہے مجھے

حسن کافر کا سامنا ہے پھر

اک قیامت کو ٹالنا ہے مجھے

آپ مجھ کو ضرور سمجھیں گے

وقت تھوڑا نکالنا ہے مجھے


فراز احمد علوی

No comments:

Post a Comment