جھوٹ قصے میں ڈالنا ہے مجھے
کوئی رستہ نکالنا ہے مجھے
آنکھ سے نور کِھنچ گیا تو کیا
خواب تیرا سنبھالنا ہے مجھے
یعنی شرطوں پہ فیصلہ ہو گا
یعنی، سِکہ اچھالنا ہے مجھے
حسن کافر کا سامنا ہے پھر
اک قیامت کو ٹالنا ہے مجھے
آپ مجھ کو ضرور سمجھیں گے
وقت تھوڑا نکالنا ہے مجھے
فراز احمد علوی
No comments:
Post a Comment