Sunday, 9 January 2022

موت آندھی ہے مگر ان کو صبا لگتی ہے

 موت آندھی ہے مگر ان کو صبا لگتی ہے

زندگی دشت کے ماروں کو سزا لگتی ہے

دھیرے دھیرے جو سسکتا ہے دیا کمرے میں

یہ یقیناً کہیں شعلے کو ہوا لگتی ہے

چند سکوں کے عوض لوگ دعا دیتے ہیں

کیا یوں خیرات کے بدلے میں دعا لگتی ہے 

رقص کرتا ہے، تڑپتا ہے، مناتا ہے اسے

چاندنی جھیل کے پانی سے خفا لگتی ہے

فقر کہتا ہے کہ؛ شیشے کو تراشا جائے

نیک بننے میں تو بس ایک قبا لگتی ہے

گھر کی دیوار کا سایہ بھی جلاتا ہے بدن

یہ جگہ اب مجھے آسیب زدہ لگتی ہے


محسن احمد

No comments:

Post a Comment