Sunday, 9 January 2022

میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر

 احساس


میری آنکھوں میں ہے بے خوابی کے نشتر چبھن

ہر طرف تیرہ شبی، ہر طرف ایک گھٹن

کوئی شعلہ، نہ کرن

سرد ہونے کو ہے دل کی دھڑکن

تک رہی ہے مجھے کس حسرت سے

میرے بستر کی ہر اک درد سے بھرپور شکن

ڈس نہ لے دل کو یہ تنہائی کے احساس کی کالی ناگن

اے مِرے خواب کی دلکش پریو

گنگناتی ہوئی زلفوں کی گھٹا

سرخ رخسار

دمکتے ہوئے لب

نشۂ چشم فسوں ساز لیے

مرمریں جسم لیے

شعلۂ آواز لیے

آ سکو آج اگر آ جاؤ

میری تنہائی کو چمکا جاؤ

سرد ہے آتشِ دل

اپنے آنچل کی ہوا سے اسے دہکا جاؤ


افتخار اعظمی

No comments:

Post a Comment