Thursday, 18 March 2021

ہمسفر تو کہاں تھا

 ہمسفر


ہمسفر

تُو کہاں تھا؟

ننگے پیروں سے بھاگی ہوئی ایک لڑکی

جو چھت پہ گئی تھی

ڈور کٹنے کو تھی

اک سِرا تیری بانہوں میں اُلجھا ہوا تھا 

تُو سراپا ہوا تھا 

اک کٹی ڈور کے زخم اُڑتی پتنگوں کے اوپر پڑے تھے

وہ تو اب بھی وہیں ہیں

فقط تُو نہیں ہے


فاطمہ مہرو

No comments:

Post a Comment