اُداس شام ہے اُجڑا ہوا ہے گھر میرا
خبر نہیں کہ دِکھائے گا کیا، ہُنر میرا
میں آسمان کی وُسعت سمیٹ لایا ہوں
حدِ گُمان سے آگے بھی ہے گُزر میرا
کبھی کبھی تو بہت یاد آنے لگتے ہیں
وہ چاہتوں کا زمانہ، وہ ہم سفر میرا
میں اپنے حالِ پریشاں پہ کب پشیماں ہوں
جنوں بدست مِری زیست ہے ثمر میرا
میں کُوئے شہرِ وفا ہی میں جا کے ٹھہروں گا
قیام دشتِ انا میں ہے لمحہ بھر میرا
قبیلے بھر کی حمیّت بچا کے لایا ہوں
لہو میں چہرہ نہیں یوں ہی تر بہ تر میرا
لہو کے دِیپ جلائے ہیں عمر بھر میں نے
کلام ٹھہرا ہے تب جا کے معتبر میرا
آصف شفیع
No comments:
Post a Comment