Thursday, 18 March 2021

گلوں پر خزاں کا اثر دیکھتے ہیں

 گُلوں پر، خزاں کا اثر دیکھتے ہیں

کہ پتوں سے خالی شجر دیکھتے ہیں

خیالوں میں بیٹھے کھِلائیں گُلوں کو

یہ مالی سا اپنا، ہنر دیکھتے ہیں

وہ بادِ صبا کہہ گئی تھی سویرے

کہ خود کو تیرا منتظر دیکھتے ہیں

کہا جب بھی ان سے ملاقات کا تو

کہا ہنس کے؛ رشکِ قمر دیکھتے ہیں

یوں تنہا  گزاری ہے، یہ زندگانی

چلو، کوئی بندہ، بشر دیکھتے ہیں

ستایا زمانے کا مجنوں بھی ہو گا

چلو، آج خود  پر، جبر دیکھتے ہیں

یوں کر کے دھماکے تو پھر خود ہی کوکی

یہ خبروں میں اس کی خبر دیکھتے ہیں


کوکی گل

No comments:

Post a Comment