Thursday, 18 March 2021

وہی منظر دوبارہ کر لیتے

 وہی منظر دوبارہ کر لیتے

ہم بھی دلکش نظارہ کر لیتے

تجھے نفرت جنوں سے تھی میرے

کچھ شکایت خدا را کر لیتے

کبھی جو سخت موڑ آ جاتا

یونہِی مل کر گزارہ کر لیتے

تجھے میں شاد گر نہِیں رکھتا

مجھ سے بے شک کنارہ کر لیتے

میرِی چاہت جنون تک آئی

تم بھی خود کو ہمارا کر لیتے

کوئی صورت نکل تو آنی تھی

کبھی جو استخارہ کر لیتے

صبح سے شام ہوتی جاتِی ہے

ہم کو اپنا سہارا کر لیتے

تم بھی پتھر تراش ہو لیکن

ہم بھی تم کو ستارہ کر لیتے

تُو مجھے یاد دیر تک آیا

کسی بھی وقت اشارہ کر لیتے

اسے پانے کی جو طلب تھی سعید

کچھ نصیحت گوارہ کر لیتے


کامران سعید خان

No comments:

Post a Comment