وہی منظر دوبارہ کر لیتے
ہم بھی دلکش نظارہ کر لیتے
تجھے نفرت جنوں سے تھی میرے
کچھ شکایت خدا را کر لیتے
کبھی جو سخت موڑ آ جاتا
یونہِی مل کر گزارہ کر لیتے
تجھے میں شاد گر نہِیں رکھتا
مجھ سے بے شک کنارہ کر لیتے
میرِی چاہت جنون تک آئی
تم بھی خود کو ہمارا کر لیتے
کوئی صورت نکل تو آنی تھی
کبھی جو استخارہ کر لیتے
صبح سے شام ہوتی جاتِی ہے
ہم کو اپنا سہارا کر لیتے
تم بھی پتھر تراش ہو لیکن
ہم بھی تم کو ستارہ کر لیتے
تُو مجھے یاد دیر تک آیا
کسی بھی وقت اشارہ کر لیتے
اسے پانے کی جو طلب تھی سعید
کچھ نصیحت گوارہ کر لیتے
کامران سعید خان
No comments:
Post a Comment