Thursday, 18 March 2021

میرے ہونے کی گواہی دے

 گواہی

وہ سیڑھی جو مِرے دل سے 

تمہارے دل کے گنبد پر اُترتی ہے 

شکستہ ہے 

وہ کھڑکی جو تمہارے گھر میں کھُلتی تھی

مِری پہچان اور مکڑی کے جالوں سے اٹی ہے

زنگ خوردہ ہے

گواہی دے نہیں سکتے،۔۔ نہ دو

لیکن مِرا اک کام تو کر دو

مِری پہچان میں اُلجھے ہوئے مکڑی کے سب جالے

مجھے دے دو

کوئی تو ہو جو مجھ کو میرے ہونے کی گواہی دے


منصورہ احمد

No comments:

Post a Comment