Thursday, 18 March 2021

آوارگی میں چین کے لمحات مسترد

 آوارگی میں چین کے لمحات مسترد

یعنی کہ دِینِ عشق میں بدعات مسترد

دی جا رہی تھی چھین کے دُوجے فقیر سے

کر دی تِرے فقیر نے خیرات مسترد

جاہل کے خواب پر بھی یقیں کر رہے ہیں لوگ

عالم کے ہو رہے ہیں مقالات مسترد

اک دائرے کو راستہ سمجھے ہوئے ہے وہ

سو رہنما کی ساری ہدایات مسترد

ہیں کچھ کتابِ عشق کے اپنے بھی ضابطے

شیطان پڑھ رہا ہو تو آیات مسترد

کیسی گھٹن ہے ان میں کہ گوتم سے قیس تک

کرتے ہیں شاہ زاد محلات مسترد

دہشت، جنون، قتل، جہالت، خدا گری

دَیر و حرم کی جملہ خرافات مسترد

مجھ سے کہا گیا تھا کہ اوقات میں رہو

اور میں نے کی ہے اپنی یہ اوقات مسترد

لوگوں نے اپنے مسئلے سمجھے تو ہو گئیں 

جہل و جنوں پہ مبنی رسومات مسترد

ایسے تو بات ہو ہی نہیں پائے گی ناں دوست

تُو کر رہا ہے جیسے ہر اک بات مسترد

چھُو کر یقیں دِلا مجھے ایسا نہ ہو کہیں

کر دے تجھے بھی علمِ طبیعات مسترد

تیری زباں کی باگ تِرے ہاتھ میں نہیں

اے شاہ! تیرا حکم، تِری بات مسترد

ایمان لا رہا ہوں میں خود ہی پہ صبح و شام

خود ہی کو کر رہا ہوں میں دن رات مسترد


شعیب کیانی

No comments:

Post a Comment