مجھ سے نہیں ہو سکا
آنسوؤں سے کوئی گُلدستہ خریدا جاتا
اور اسے انتظار کی دُھوپ لگوا کر
ساحل کی ریت سے سجایا جاتا
کوئی لفظ ایسا نہیں ملا
جو بِن بولے تمہیں میرا بنا دیتا
میں نے تمہاری خامشی کا لباس
ساری زندگی پہنا ہے
باقی لوگ اس کی اُترن پر زندہ ہیں
تمہیں چُھو کر امر ہوا جاتا
یا، بِن چھُوئے تم سے مٹکے بھرے جاتے
بِن دیکھے
یا، تمہیں دیکھ کر مر جانے کے سِوا
زندگی کے کوئی معنی نہیں
شرمندہ ہوں
مجھ سے ایسا نہیں ہو سکا
فاطمہ مہرو
No comments:
Post a Comment