دل کا خیمہ اکھاڑ سکتی ہو
تم محبت اجاڑ سکتی ہو
ایک کمزور سا ہدف ٹھہرے
زندگی تم بچھاڑ سکتی ہو
بے بسی اب کھلی اجازت ہے
درد رگ رگ میں گاڑ سکتی ہو
میں نے لکھے ہیں خط تمہارے نام
تم جو چاہو تو پھاڑ سکتی ہو
مجھ پہ غصہ اتارنا چاہو
بال آ کر بگاڑ سکتی ہو
عدیل عبداللہ
No comments:
Post a Comment