Saturday, 10 July 2021

دل کا خیمہ اکھاڑ سکتی ہو تم محبت اجاڑ سکتی ہو

 دل کا خیمہ اکھاڑ سکتی ہو

تم محبت اجاڑ سکتی ہو

ایک کمزور سا ہدف ٹھہرے

زندگی تم بچھاڑ سکتی ہو

بے بسی اب کھلی اجازت ہے

درد رگ رگ میں گاڑ سکتی ہو

میں نے لکھے ہیں خط تمہارے نام

تم جو چاہو تو پھاڑ سکتی ہو

مجھ پہ غصہ اتارنا چاہو

بال آ کر بگاڑ سکتی ہو


عدیل عبداللہ

No comments:

Post a Comment