تجھ دل فریب جسم کے نقشے میں کچھ نہیں
اے خوش جمال حسن کے حصے میں کچھ نہیں
بدشکل ہو کے پُرسکوں ہوتا ہوں اور میں
یہ بولتا ہوں چاند کے جلوے میں کچھ نہیں
رنگ و سرابِ ہستئ دل بدمزہ ہے دوست
عمرِ رواں کے ایک بھی لمحے میں کچھ نہیں
ایسی دھنک مثال تھی وہ اپسرا، مگر
کیا دیکھیے کہ آپ کے دیکھے میں کچھ نہیں
میں خواب چاہتا ہوں، کئی خوش نما سے خواب
اور چاہتا میں خواب کے بدلے میں کچھ نہیں
پہلے میں خود سے کہتا ہوں اچھے بھلے تو ہو
پھر بولتا ہوں؛ جا تِرے چہرے میں کچھ نہیں
دلکش ہیں آپ خیر سے اور خوش مزاج بھی
لیکن یہ کیا کہ آپ کے بچے میں کچھ نہیں
اب کیا کہ سبزگی ہے مناظر حسین ہیں
تم چھوڑ کر چلے ہو تو رستے میں کچھ نہیں
اک دل ہے جس کے ساتھ خدا کا وجود ہے
ورنہ ہماری خاک کے پُتلے میں کچھ نہیں
مقداد احسن
No comments:
Post a Comment