بدل کے دانہ حریف سے آگے لاؤ مجھ کو
بچا کے سانپوں سے سیڑھیوں پر چڑھاؤ مجھ کو
یہ کیا کِیا تم نے؟ ٹیڑھا میڑھا بنا دیا ہے
اب اپنے ہاتھوں سے ہی دوبارہ بناؤ مجھ کو
تمام رستوں کی خاک اُڑاتے میں تھک گئی ہوں
اب آگے بڑھنے کو چاہیے ایک ناؤ مجھ کو
جو ہاتھ ماتھے پہ رکھ کے اب سوگوار ہو تم
کہا تھا کس نے کہ اس طرح سے گنواؤ مجھ کو
میں اپنی آنکھیں تمہاری آنکھوں کو دے چکی ہوں
میں دیکھنا چاہتی ہوں خود کو دکھاؤ مجھ کو
خدا نے جس کے لیے ہے انعم مجھے اتارا
اسی کی نِسبت سے دنیا والو! بلاؤ مجھ کو
انعمتا علی
No comments:
Post a Comment