Saturday, 10 July 2021

اس طرف ہم نے کبھی دھیان نہیں کرنا ہے

 اس طرف ہم نے کبھی دھیان نہیں کرنا ہے

ہجر کو شاملِ امکان نہیں کرنا ہے

اتنے پیاروں کو گنوایا ہے کہ اس سال ہمیں

اب کسی بات نے حیران نہیں کرنا ہے

آگ سے آگ جلانی ہے ضرورت کے لیے

جسم کو جسم کا عنوان نہیں کرنا ہے

جِیتنے والا معافی کا طلب گار رہے

اس قدر کھیل کو آسان نہیں کرنا ہے

خواب جھوٹے بھی کئی ان کو دکھانے ہیں مگر

تیری آنکھوں کا بھی نقصان نہیں کرنا ہے

شعر کہنے ہیں مگر ہم نے بنامِ جِدت

پڑھنے والوں کو پریشان نہیں کرنا ہے

اس نے رکھنا ہے مجھے دل میں ہمیشہ ساحر

پر کسی درد کا درمان نہیں کرنا ہے


جہانزیب ساحر

No comments:

Post a Comment