چھو اگر لیں گے تیرے لب آئینہ ہوجاؤں گا
ورنہ پتھر ہوں کسی دن حادثہ ہو جاؤں گا
میں ابھی سے کیا بتاؤں لذتِ زخمِ جگر
دھیرے دھیرے عشق تجھ سے آشنا ہو جاؤں گا
زندگی کو چاہیے مدِ مقابل اک عدو
گر فنا ہو جائے گا، تو میں فنا ہو جاؤں گا
سر پہ لے کر پھر رہا ہوں میں شرافت کی ردا
سب کی نظروں میں کسی دن میں برا ہو جاؤں گا
ڈال دینا میری گردن میں حسیں الفاظ کو
تیری غزلوں کا اگر میں قافیہ ہو جاؤں گا
ڻوٹ جائیں گی میرے ہاتھوں کی سب بیساکھیاں
دیکھنا جس روز پیروں پر کھڑا ہو جاؤں گا
پوجتا ہے ہر گھڑی مجھ کو عبادت کی طرح
میں تِرے ہوتے ہوئے کیسے قضا ہو جاؤں گا
وقت اور حالات نے باندھا تھا میرے پاؤں کو
میں نے کب سوچا تھا میں تجھ سے جدا ہو جاؤں گا
تُو نے پتھر اتنا مجھ پر رکھ دیا احسان کا
پھر مقابل میں تیرے کیسے کھڑا ہو جاؤں گا
انگلیاں جس کی پکڑ کر میں نے چلنا سیکھا دل
اس کو چھوٹا کہہ کے میں کیسے بڑا ہو جاؤں گا
دل سکندر پوری
No comments:
Post a Comment