On Death Bed
موت ہمیں
گلیوں گلیوں
ڈھونڈتی رہے گی
اور ہم اس سے آنکھ مچولی کھیلتے
بہار کے بچے کُھچے لمحے
گزارنے کی سعی میں
ایک دوسرے کو لمبی فون کالز پر
بوسوں کے تبادلوں کے منصوبے
ترتیب دیتے رہیں گے
وہ ہمیں ڈھونڈتی اِدھر آ نکلے
اور ٭ہائیڈ کی باری ہماری ہو
پھر بھی ہم اپنے محبوب کو
بسترِ مرگ پر
جنونی خطوط لکھنے سے باز نہ آئیں گے
ہم چاہیں گے
کوئی شدید پیاس کا مارا ہمیں
شیشے کے پار سے جھانکتا رہے
چاہتا رہے
کہ ہم موت کی بانہوں سے اس کی بانہوں میں
باحفاظت منتقل کر دئیے جائیں
ہم چاہیں گے
کوئی یار ہمارا
یہاں وہاں سے نظر چُرا کر
آنکھ مارتے ہوئے
ایک سُلگا سِگرٹ ہماری طرف اچھال دے
ایک سنہری لمحہ اپنے پاس سنبھال لے
ہم چاہیں گے
اونچی ایک آواز لگائیں
اور اپنے سپنوں کی لمبی لسٹ سنائیں
یہ سب سُن کر سارے لوگ خموش ہو جائیں
اور ہمیں ماضی کی طرح پھر خبطی سمجھا جائے
ہم چاہیں گے
ہم بدلے کی آگ جلائیں
اور پھر اس میں اپنے سچ اور جھوٹ سے کُندن ہار بنائیں
جس جس نے ہم کو روگ لگایا
اِس بستر سے بھاگیں، جا کر اُس کو مل کے آئیں
اور دِکھائیں دُکھتی رگ کا رُوپ سرُوپ
ہم چاہیں گے
کوئی ہمیں ملنے نہ آئے
اور ہم چھت کو کتنے ہی گھنٹے
یہ سب سوچے، تکتے جائیں
موت ہمیں آواز لگائے
اِس سے پہلے
ہم پھر ”اس” سے ملنے جائیں
اور اسے زندگی کے ساتھ مصروف پا کر
روتے روتے واپس آئیں
اک آخری بار بھرپور مسکرا کر
موت کی آغوش میں سو جائیں
فاطمہ مہرو
٭Hide
No comments:
Post a Comment