Sunday, 14 March 2021

رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ

 رات آتی ہے تو طاقوں میں جلاتے ہیں چراغ

خواب زندہ ہیں سو آنکھوں میں جلاتے ہیں چراغ

آندھیاں اب ہمیں محصور کیۓ بیٹھی ہیں

اب تو ہم صرف خیالوں میں جلاتے ہیں چراغ

ٹھوکریں کھاتے ہوئے عمر کٹی اپنی، سو ہم

دوسروں کے لیے راہوں میں جلاتے ہیں چراغ

طنز کرتا ہوا گزرا تھا ہوا کا جھونکا

تب سے ہم تیز ہواؤں میں جلاتے ہیں چراغ

تشنہ لب آئیں گے دریاؤں کے ٹھکرائے ہوئے

اسی باعث تو سرابوں میں جلاتے ہیں چراغ

خواب بکھرے ہیں ہمارے یہاں ہر گام، سو ہم

شام ہوتے ہی خرابوں میں جلاتے ہیں چراغ


اسلم محمود

No comments:

Post a Comment