دلوں میں بغض تھا سو بزم میں دھڑے ہوئے تھے
ہم اپنے عہد کے پاتال میں پڑے ہوئے تھے
میں اونچا بولوں تو سانسیں اُکھڑنے لگتی تھیں
نفس کے تار کہیں حلق میں اڑے ہوئے تھے
مجھے تو غم کی نمو پر بھی رشک آتا ہے
کہ اس کے ساتھ مِرے حوصلے بڑے ہوئے تھے
مِری نظر میں کئی صورتیں تھیں دنیا کی
مِرے بدن میں کئی آئینے جڑے ہوئے تھے
گِرا ہوا تھا میں رستے میں لڑکھڑا کے کہیں
ذرا سی دور ہی کچھ لوگ بھی کھڑے ہوئے تھے
میں سانس سانس پہ غم کی چٹان کھینچتا تھا
اجل کے نیزے مِرے سینے میں گڑے ہوئے
جدید شاعری حسان کیسے راس آتی
کہ ہم تو میر کے دیوان میں بڑے ہوئے تھے
حسان احمد
No comments:
Post a Comment