Sunday, 14 March 2021

دلوں میں بغض تھا سو بزم میں دھڑے ہوئے تھے

 دلوں میں بغض تھا سو بزم میں دھڑے ہوئے تھے 

ہم اپنے عہد کے پاتال میں پڑے ہوئے تھے

میں اونچا بولوں تو سانسیں اُکھڑنے لگتی تھیں

نفس کے تار کہیں حلق میں اڑے ہوئے تھے

مجھے تو غم کی نمو پر بھی رشک آتا ہے 

کہ اس کے ساتھ مِرے حوصلے بڑے ہوئے تھے 

مِری نظر میں کئی صورتیں تھیں دنیا کی

مِرے بدن میں کئی  آئینے جڑے ہوئے تھے

گِرا ہوا تھا میں رستے میں لڑکھڑا کے کہیں 

ذرا سی دور ہی کچھ لوگ بھی کھڑے ہوئے تھے 

میں سانس سانس پہ غم کی چٹان کھینچتا تھا

اجل کے نیزے مِرے سینے میں گڑے ہوئے

جدید شاعری حسان کیسے راس آتی

کہ ہم تو میر کے دیوان میں بڑے ہوئے تھے


حسان احمد

No comments:

Post a Comment