Sunday, 14 March 2021

ازل سے نکلا ہوں حدِ ابد میں آ گیا ہوں

 ازل سے نکلا ہوں حدِ ابد میں آ گیا ہوں

شمار میں جو نہیں اس عدد میں آ گیا ہوں

تمہارا خرچ محبت تھی اور اس کے عوض

میں تیرے ہاتھ منافع کی مد میں آ گیا ہوں

درود پڑھ کے تُو میری جبیں پہ بوسہ دے

ناجانے پھر سے میں کس نظرِ بد میں آ گیا ہوں

جو دوسرا کوئی ہوتا تو معذرت کرتا

مجھے بچا کہ میں خود اپنی زد میں آ گیا ہوں

چراغ سب نے جلائے مگر نہ بات بنی

میں خود ہی چل کے اندھیروں کے رد میں آ گیا ہوں

حسابِ دنیا و دِیں ختم ہو گیا ہے یہاں

میں تیری گود میں ہوں یا لحد میں آ گیا ہوں

دیارِِ شعر میں ثاقب کی آبرو کیا تھی

ملا فراز تو شہرِِ اسد میں آ گیا ہوں


مجذوب ثاقب

No comments:

Post a Comment