ازل سے نکلا ہوں حدِ ابد میں آ گیا ہوں
شمار میں جو نہیں اس عدد میں آ گیا ہوں
تمہارا خرچ محبت تھی اور اس کے عوض
میں تیرے ہاتھ منافع کی مد میں آ گیا ہوں
درود پڑھ کے تُو میری جبیں پہ بوسہ دے
ناجانے پھر سے میں کس نظرِ بد میں آ گیا ہوں
جو دوسرا کوئی ہوتا تو معذرت کرتا
مجھے بچا کہ میں خود اپنی زد میں آ گیا ہوں
چراغ سب نے جلائے مگر نہ بات بنی
میں خود ہی چل کے اندھیروں کے رد میں آ گیا ہوں
حسابِ دنیا و دِیں ختم ہو گیا ہے یہاں
میں تیری گود میں ہوں یا لحد میں آ گیا ہوں
دیارِِ شعر میں ثاقب کی آبرو کیا تھی
ملا فراز تو شہرِِ اسد میں آ گیا ہوں
مجذوب ثاقب
No comments:
Post a Comment