Sunday, 14 March 2021

خوبصورت سماں تھا بچپن میں

 خوبصورت سماں تھا بچپن میں

دوست سارا جہاں تھا بچپن میں

چاند پر تم نے گھر بنایا ہے آج

میرا گھر تو وہاں تھا بچپن میں

کم سِنی کیا کمال ہوتی ہے

میں تو اِک کہکشاں تھا بچپن میں

ہو بڑے بد تمیز شرم کرو

لب پہ فقرہ رواں تھا بچپن میں

ہم سا کوئی نہیں ہے دنیا میں

ہاں یہ غالب گماں تھا بچپن میں

میرے چاروں طرف تھے پھول ہی پھول

ہر شجر سائباں تھا بچپن میں

چھیڑ کر ہسنا، ہنس کہ رو دینا

دل بڑا ناتواں تھا بچپن میں

تھا میں شہزادہ اور پریوں کا

میرے سنگ کارواں تھا بچپن میں

آج ہے زرد میرا چہرہ تو کیا

سُرخ آتش فشاں تھا بچپن میں

خلق کو اب وہاں رسائی ہوئی

ذہن میرا جہاں تھا بچپن میں

اب ہے کمزور تو رضا، لیکن

ایک گھبرو جواں تھا بچپن میں


رضا سلیم

No comments:

Post a Comment