Sunday, 14 March 2021

عمر اس سوچ میں کٹی ہو گی

 عمر اس سوچ میں کٹی ہو گی

اس کہانی میں جل پری ہو گی

دھند سوچوں پہ جم گئی ہو گی

اور گاڑی بھی چل رہی ہو گی

دل کے ٹکڑے سنبھال کر رکھنا

ان چراغوں میں روشنی ہو گی

اس چمن کی گلاب کِھلنے پر

ایک تتلی سے دوستی ہو گی

رات چپکے سے خواب میں آنا

تم سے مل کر مجھے خوشی ہو گی

اس کے چھونے کی دیر ہے اور پھر

پیڑ کی چھال مخملی ہو گی

اُس کی زلفوں کے پھیلتے سائے

رات کی آنکھ لگ گئی ہو گی

چاند بانہوں میں آ گیا ہو گا

رات زلفوں سے کھیلتی ہو گی


ثمر علی

ثمر محمد علی

No comments:

Post a Comment