عمر اس سوچ میں کٹی ہو گی
اس کہانی میں جل پری ہو گی
دھند سوچوں پہ جم گئی ہو گی
اور گاڑی بھی چل رہی ہو گی
دل کے ٹکڑے سنبھال کر رکھنا
ان چراغوں میں روشنی ہو گی
اس چمن کی گلاب کِھلنے پر
ایک تتلی سے دوستی ہو گی
رات چپکے سے خواب میں آنا
تم سے مل کر مجھے خوشی ہو گی
اس کے چھونے کی دیر ہے اور پھر
پیڑ کی چھال مخملی ہو گی
اُس کی زلفوں کے پھیلتے سائے
رات کی آنکھ لگ گئی ہو گی
چاند بانہوں میں آ گیا ہو گا
رات زلفوں سے کھیلتی ہو گی
ثمر علی
ثمر محمد علی
No comments:
Post a Comment