Sunday, 14 March 2021

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت

 کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت

حیا کے ساتھ ہے تو اک جہان ہے عورت

کہیں نشاں تو کہیں بے نشانیاں اس کی

ہے داستاں تو کہیں رازدان ہے عورت

کبھی کبھی تو سمیٹے ہوئے وہ سسکیوں کو

بہت خموش ہے لیکن بیان ہے عورت

بہن ہے بیوی ہے اور ہے یہاں پہ اک بیٹی

جو ماں کا روپ ہو تو سائبان ہے عورت

ہزار مشکلوں کو جھیل مسکراتی ہے

سمجھ سکو تو اسے داستان ہے عورت

سکھاتی ہے وہ تو آداب اپنے نسلوں کو

روایتوں میں سجی ایک شان ہے عورت

کہیں کہیں تو زمیں تنگ ہے بہت اس پر

کہیں کہیں تو بہت بد زبان ہے عورت

جو باپ بھائی اور شوہر کا اعتماد لیے

بچھائے اپنی محبت تو جان ہے عورت

پہن لیا ہے یہاں جس نے خواہشوں کا بدن

دھواں دھواں ہے وہ اور بدگمان ہے عورت

خدا کے سامنے سجدے کئے نہیں بکھری

اڑان اپنے لیے، اک چٹان ہے عورت

وہ جس کے پاؤں کے نیچے سجائی ہے جنت

ردا وہی تو بہت مہربان ہے عورت


ردا فاطمہ

No comments:

Post a Comment