Sunday, 14 March 2021

نہ ہی عشق مشک کی حالتیں

 نہ ہی عشق، مُشک کی حالتیں

نہ گِلے رہے، نہ شکایتیں

ہائے، ترکِ ربط کی راہ میں

وہ جو مان رخنہ مثال تھا

وہ نہیں رہا مِرے دوستو

یہیں طولِ شب کو سمیٹ لو

یہیں رختِ غم کو لپیٹ لو

وہ جو شخص واقفِ حال تھا

وہ جو آئینوں کی مثال تھا

وہ نہیں رہا مِرے دوستو


ظہیر مشتاق

No comments:

Post a Comment