اب تو صحرا ہوں سمندر بھی کبھی تھا، سو تھا
اک تلاطم میرے اندر بھی کبھی تھا، سو تھا
پھر کسی تاج میں ہیرے سا سجایا گیا میں
میں تِری راہ کا پتھر بھی کبھی تھا، سو تھا
تم جہاں بستے ہو مسرور مدینے والو
اہل گریہ کا یہاں گھر بھی کبھی تھا، سو تھا
عادتاً لوگ جہاں آج بھی رک جاتے ہیں
ہاں اسی موڑ پہ وہ در بھی کبھی تھا، سو تھا
اس جزیرے پہ تو اب تخت ہے، دھن ہے، زن ہے
اک غلاموں کا پیمبر بھی کبھی تھا، سو تھا
یار! تم ایک سخن فہم ہوا کرتے تھے
یار! میں ایک سخنور بھی کبھی تھا، سو تھا
عدنان محسن
No comments:
Post a Comment