Saturday, 8 January 2022

درد راستہ نہیں دکھاتا یہ اندھا ہوتا ہے

 گہری دھند


درد راستہ نہیں دکھاتا، یہ اندھا ہوتا ہے

دُھند کے عین درمیان لے جا کر

ہاتھ چھوڑ دینے والا

اس دُھند سے پرے اک کہکشاں بستی ہے

ان لوگوں کے لیے

جنہیں تمہارے ہاتھ کا سہارا چند قدم ملا

درد، دِشاؤں سے ماوراء ہے

وہاں جا بستا ہے جہاں مکینوں کے گھر

اجنیت کے قُفلوں سے قید ہیں

اور چابیاں

تمہارے سرہانے کی پہلی پرت کے اندر

درد کا کوئی خدا نہیں جو اسے

کاغذ و قلم سے مٹا کر

دلبروں کی داد وصول کرے

تمہاری ہنسی واپس لا کر تیرگی، اُجال دے

خاتونِ میکبیتھ کے خنجر کی طرح

یہ اندر اُترنے سے پہلے سوچتا نہیں

کہ بادشاہت بھی لامتناہی درد ہے

مِرے سامنے تمہارے ماضی کی طرح

خاتونِ ساگا کی مانند اِسے

کھوپڑیوں میں مے نوشی اور

بُھنے ہوئے گوشت میں بُھنا ہوا دل، عزیز ہے

درد ہنستا ہے، بالکل تمہاری طرح


فاطمہ مہرو

No comments:

Post a Comment