خیالِ شہرِ طلسمات سے نکل جاتے ہو
کبھی کبھار تو اوقات سے نکل جاتے ہو
نِبھا نہیں رہے اپنے کئے ہوئے وعدے
کہ باتوں باتوں میں تم بات سے نکل جاتے ہو
مِری مرادِ محبت ادھوری رہ جاتی ہے
کسی خیال میں دیہات سے نکل جاتے ہو
ہمارے بیچ بچھڑنا تو دن کو ٹھہرا تھا
یہ کیا ہُوا ہے کہ تم رات سے نکل جاتے ہو
میں جیت کر بھی بڑی ہار کے مقابل ہوں
سو کیسے ہار کے تم مات سے نکل جاتے ہو
زبیر! میں نے اسے طعنہ دیا غربت کا
کہ اسی دن سے میرے ہاتھ سے نکل جاتے ہو
زبیر شیخ
No comments:
Post a Comment