چائلڈ میرج
یہ بے جوڑ رشتے
ہیں قاتل خوشی کے
کسی سے کسی کے
سبھی خواب یکسر
یہاں چھین لینا
روایت بنا ہے
یہ عزت کے جھنڈے
یہ غیرت کے تمغے
کسی کے کفن پر
سروں کو اٹھائے
کھڑے ہیں فخر سے
کتابیں کسی کا
یا بستہ کسی کا
یوں گڑیا کسی کی
یوں آنگن کسی کا
خدارا! نہ چھینو
یوں بچپن کسی کا
صائم علی
No comments:
Post a Comment