Saturday, 8 January 2022

جنم جلی میرے باپ نے پسندیدہ عورت گرائی

 جنم جلی


میرے باپ نے پسندیدہ عورت گرائی

اور اس کے پیٹ میں گالی تھوک دی

رذیلہ کی چھاتی سے

میں نے سانس کی چھال ادھیڑی

چمڑے کے بستر سے جسم کو علیحدہ کیا

روح کا ننگ ڈھانپنے کے لیے

بان کی چھاگل میں اعضاء کا تعفن بو دیا

مرد کی رگڑ سے ہانپنے کے لیے

زرد پُتلی سے خواب کا لوتھڑا پھسلا

حلق میں اٹکا اور میں ندامت ہو گئی

کسیلی نمی کے رنگ سے

زبان کی کِرچی کو آشنا کیا

میرے نتھنے فقط بھیڑوں کی باس چکھ سکتے ہیں

ہونٹ کے کونے میں گندھک نے طاعون کا ٹکڑا رکھا

خوف کی گانٹھ سے میں نے سینے کو داغ دیا

حاملہ ہونے سے قبل میں نے پیٹ پر جھریاں کھودیں

کھجور کے تنے سے پیار کیا

اور اپنی پیٹھ کا لمس دیا

خدا کی آنکھ نے آنسو چبا لیا

سو میں بانجھ نہیں رہ سکی

میری کوکھ میں تیسری داڑھی ہے

اور مردہ ہے


حسن علوی

No comments:

Post a Comment