وہ کتابیں
وہ کتابیں جو بک شیلف کی زینت تھیں
اب دھول مٹی کا لبادہ اوڑھے
ماتم کناں ہیں اپنی خستہ حالی پر
اب تو کتابوں کی یہ الماری فقط
اک ردی خانہ ہے
کہ جہاں یہ کتابیں ہر گزرتے دن کے ساتھ
گلنے سڑنے کے عمل سے گزرتی ہیں
ان میں تحریر با معانی الفاظ
رفتہ رفتہ اپنی پہچان کھو رہے ہیں
حرف لفظ جملہ اور تحریر کی وہ مٹھاس
جو کسی اور ہی دنیا میں لے جاتی تھی
کڑواہٹ بن کر اک کونے میں دُبکی بیٹھی ہے
ہاتھوں کی وہ انگلیاں جو
ہر لفظ کے پاؤں چُھو کر
اک لفظ سے دوسرے لفظ کی جانب بڑھتی تھیں
اب بٹنوں سے جُھک کر ملتی ہیں
لیکن اس الماری کی قبر میں زندہ دفن کتابوں میں
ہر روز ہلکی سی اُمید کی جُنبش ہوتی ہے
کہ شاید ایسا ہو جائے گا
میرا قاری لوٹ آئے گا
ثمرین افتخار
No comments:
Post a Comment