Saturday, 8 January 2022

وہ کتابیں جو بک شیلف کی زینت تھیں

وہ کتابیں


وہ کتابیں جو بک شیلف کی زینت تھیں

اب دھول مٹی کا لبادہ اوڑھے

ماتم کناں ہیں اپنی خستہ حالی پر

اب تو کتابوں کی یہ الماری فقط

اک ردی خانہ ہے

کہ جہاں یہ کتابیں ہر گزرتے دن کے ساتھ

گلنے سڑنے کے عمل سے گزرتی ہیں

ان میں تحریر با معانی الفاظ

رفتہ رفتہ اپنی پہچان کھو رہے ہیں

حرف لفظ جملہ اور تحریر کی وہ مٹھاس

جو کسی اور ہی دنیا میں لے جاتی تھی

کڑواہٹ بن کر اک کونے میں دُبکی بیٹھی ہے

ہاتھوں کی وہ انگلیاں جو

ہر لفظ کے پاؤں چُھو کر

اک لفظ سے دوسرے لفظ کی جانب بڑھتی تھیں

اب بٹنوں سے جُھک کر ملتی ہیں

لیکن اس الماری کی قبر میں زندہ دفن کتابوں میں

ہر روز ہلکی سی اُمید کی جُنبش ہوتی ہے

کہ شاید ایسا ہو جائے گا

میرا قاری لوٹ آئے گا


ثمرین افتخار

No comments:

Post a Comment