Friday, 4 February 2022

کوئی پوچھ لے تو کہنا مرا حال اب کہ یوں بے

 کوئی پوچھ لے تو کہنا، مِرا حال اب کہ یوں بے

نہ کسی کی آرزو ہے، نہ کسی کا اب جنوں ہے

میں کنارِ دل پہ بیٹھا، یہی خود سے پوچھتا ہوں

کہاں رہ گئے تلاطم بڑی دیر سے سکوں ہے

مجھے چارہ گر نہیں ہے کوئی تجھ سے بھی شکایت

کوئی زخم ظاہری تھا،۔ کوئی زخم اندروں ہے

کہیں اوب ہی نہ جائے اسی روز و شب سے یزداں

مجھے ڈر ہے لٹ نہ جائے جو متاعِ کن فکوں ہے

💢تِرے ساتھ چلتا چلتا بڑی دور آ گیا ہوں

بڑی دیر سے ہوں تنہا، یہ فریب یا فسوں ہے

نہیں نفع و سود کا ہے کوئی زیست میں کرشمہ

ابھی تک زیاں، زیاں ہے ابھی تک زبوں، زبوں ہے

کسی کیمیا سے ہوں گے نہ جدا یہ دو مرکب

مِرے خون میں جو مٹی مِری خاک میں جو خوں ہے

بڑی فلم دیکھ لی ہے تِرے ہجر و وصل والی

مِری بوریت کا قصہ مِری جان جوں کا توں ہے

💝مِری خواہشِ تمنا،۔ مِرا حاصلِ محبت

مجھے اتنا شوق کیوں تھا مجھے اتنا درد کیوں ہے 

میں ضمیر، حسنِ فطرت کو عمل سے دیکھتا ہوں

جہاں پیڑ سرخرو ہیں، وہاں دھوپ سرنگوں ہے


ضمیر قیس

ضمیر حسن

No comments:

Post a Comment