ان کہے الفاظ میں تفسیر ہو جاتا ہے تُو
تجھ کو سوچیں تو بہت گمبھیر ہو جاتا ہے تو
کیسی کیسی یاد آتی ہے تو کھل اٹھتے ہیں پھول
کیسے کیسے دشت میں تعمیر ہو جاتا ہے تو
میں تِرے گھیرے سے باہر جا نہیں سکتا کہیں
خواب دیکھوں، خواب کی تعبیر ہو جاتا ہے تو
لوگ کہہ دیتے ہیں تُو بالا ہے نقش و رنگ سے
سامنے آ کر کوئی تصویر ہو جاتا ہے تو
لفظ جب جملوں کی زنجیروں میں ہو جاتے ہیں قید
آنکھ کی پتلی میں جب تنویر ہو جاتا ہے تو
سانس اور آفاق کے چوگرد ہے گھیرا تِرا
اور کچھ لکھتا ہوں میں، تحریر ہو جاتا ہے تو
اے منور کس طرح کرتا ہے تُو روشن مجھے
اے مسخر کس طرح تسخیر ہو جاتا ہے تو
وقت جب اپنی طرف سے کھینچ لیتا ہے کماں
میرے سینے میں ہمیشہ تیر ہو جاتا ہے تو
جب کہیں بچ کر نکلنے کی کوئی صورت نہ ہو
مجھ سے بے تدبیر کی تدبیر ہو جاتا ہے تو
اقتدار جاوید
No comments:
Post a Comment