ان گنت یوں تو خریدار ملے ہم نہ ملے
وہ جو یوسف تھے کئی بار ملے ہم نہ ملے
آج راہوں میں ملاقات ہوئی ہے اُن سے
آج وہ صورتِ دلدار ملے، ہم نہ ملے
کون جانے کہ کہاں کھوئے تھے ہم محفل میں
کتنی رغبت سے ہمیں یار ملے ہم نہ ملے
ہم بھی نخوت میں رہے کوچہء تنہائی میں
عید کے روز طرحدار ملے ہم نہ ملے
ہم تو ہر دور میں حق گوئی کے منصب پہ رہے
کب کوئی ہم سے سرِ دار ملے ہم نہ ملے
کل جو تنہائی میں ملنے سے گریزاں تھے ہمیں
آج وہ بر سرِ بازار ملے ہم نہ ملے
ہم بھی کوفے میں رہے ابنِ مظاہر کی طرح
ابنِ مرجانہ سے غدار ملے ہم نہ ملے
سوچتے رہتے ہیں ہم اپنی کہانی پہ اسد
کھل کے ہر فرد کے کردار ملے ہم نہ ملے
اسد اعوان
No comments:
Post a Comment