Friday, 4 February 2022

زندگی کی دفعہ

 Interrogation


نام کیا ہے ترا؟

زندگی

چُپ کے اس شہر میں

زندگی جرم ہے

تجھ پہ اس زندگی کی دفعہ لگتی ہے

کام کیا ہے ترا؟

بندگی

اس گناہوں کے بیوپار میں

میرے تھانے کے ہر کوچے بازار میں

بندگی جرم ہے

تجھ پہ اس بندگی کی دفعہ لگتی ہے

گھرکہاں ہے تِرا؟

یہ سڑک، یہ گلی

تُو ذرا دیکھ تو

جسم پر یہ ترے

خواب کے کتنے مہلک جراثیم ہیں

تُو تو ان کو گرا کر چلا جائے گا

اور پھر میونسپلٹی کے آنے تلک

شہر میں یہ وبا پھیل بھی سکتی ہے

تجھ پہ اک خواب کو بانٹنے کی دفعہ لگتی ہے

آنکھ کے روزنوں میں چھپاتا ہے کیا؟

جی، وہ ہے روشنی

اوہ، اچھا تو تُو چور ہے

تُو نے سورج سے کیوں روشنی چوری کی

تجھ پہ دن لُوٹنے کی دفعہ لگتی ہے

تجھ کو اب وقت کی ہتھکڑی لگتی ہے


ثروت زہرا

No comments:

Post a Comment