Friday, 7 April 2023

مرے بغیر اگر انتظام چلتا ہے

 مِرے بغیر اگر انتظام چلتا ہے

تم اپنا تخت سنبھالو، غلام چلتا ہے

ہم ایسے سر پھرے کب اس کو مان سکتے ہیں

جو حکمِ شاہ یہاں صبح شام چلتا ہے

فضائے عمر کبھی اتنی سوگوار نہ تھی

کِھلے ہیں پھول نہ ہی دورِ جام چلتا ہے

نہیں ہے بیچنے والوں سے بھاؤ تاؤ کوئی

کہ خوب و خام کا اک سا ہی دام چلتا ہے

ہے کائنات، تغیر کے کون سے رخ پر

سکوتِ شور ہے برپا،۔ قیام چلتا ہے

ستم تو یہ ہے کہ اب کُوئے استقامت میں

عدو کا وار بصد احترام چلتا ہے

ہے کوئی شعبدہ گر کوئی منتظم، سو یہاں

کسی کا داؤ، کسی کا نظام چلتا ہے

تبھی تو ڈال رہا ہوں سپر چراغوں کو

ہوا کا تیر دریچے سے عام چلتا ہے

ہے وہ بھی موڑ جدائی کے راستے میں جہاں

یہ رہ نورد ہیں ساکت، مقام چلتا ہے

وہ سبز گھاس ہوں جس پر خدا کی رحمت سے

برہنہ پاؤں کوئی خوش خرام چلتا ہے

میں بے خودی میں خدا کو پکار لیتا ہوں

جہاں پہ بس نہیں چلتا یہ نام چلتا ہے

میں پوچھتا ہوں کہ بازارِ زندگی میں ضمیر

روپے نہ ہوں تو محبت سے کام چلتا ہے


ضمیر قیس

ضمیر حسن

No comments:

Post a Comment