Friday, 7 April 2023

اپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہ

 کسی کے بعد 

اپنے ہاتھوں کی بد صورتی میں کھو گئی ہے وہ 

مجھے کہتی ہے؛ تابش! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کو 

برے ہیں ناں

اگر یہ خوبصورت تھے تو ان میں کوئی بوسہ کیوں نہیں ٹھہرا

عجب لڑکی ہے 

پورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہے 

صراحی دار گردن نرم ہونٹوں تیز نظروں سے وہ بد ظن ہے 

کہ ان اپنوں نے ہی اس کو سر بازار پھینکا تھا 

کبھی آنکھوں میں ڈوبی 

اور کبھی بستر پہ سلوٹ کی طرح ابھری 

عجب لڑکی ہے 

خود کو ڈھونڈتی ہے 

اپنے ہاتھوں کی لکیروں میں 

جہاں وہ تھی نہ ہے، آئندہ بھی شاید نہیں ہو گی 

وہ جب انگلی گھما کر 

فیض کی نظمیں سناتی ہے 

تو اس کے ہاتھ سے پورے بدن کا دکھ جھلکتا ہے 

وہ ہنستی ہے تو اس کے ہاتھ روتے ہیں 

عجب لڑکی ہے 

پورے جسم سے کٹ کر فقط ہاتھوں میں زندہ ہے 

مجھے کہتی ہے؛ تابش! تم نے دیکھا میرے ہاتھوں کو 

برے ہیں ناں؟ 

میں شاید گر چکا ہوں اپنی نظروں سے 

میں چھپنا چاہتا ہوں اس کے تھیلے میں 

جہاں سگریٹ ہیں ماچس ہے 

جو اس کا حال ماضی اور مستقبل

عجب لڑکی ہے 

آئے تو خوشی کی طرح آتی ہے 

اسے مجھ سے محبت ہے 

کہ شاید مجھ میں بھی بدصورتی ہے اس کے ہاتھوں کی


عباس تابش

No comments:

Post a Comment