Sunday, 5 December 2021

محو دنیا ہیں سو ناشاد نہیں رہتے ہیں

 محوِ دنیا ہیں سو، ناشاد نہیں رہتے ہیں

ورنہ خوش ہم بھی تِرے بعد نہیں رہتے ہیں

سرحدی شہروں کے جیسے ہیں دلوں کے گوشے

بس بھی جائیں تو یہ آباد نہیں رہتے ہیں

اس لیے سانحہ ہر عشق میں لازم ہے کوئی

خواب اچھے ہوں تو پھر یاد نہیں رہتے ہیں

سب نتیجے کو سمجھتے ہیں مہارت کا ثبوت

تجربے، شاملِ ایجاد نہیں رہتے ہیں

رت جگا گھر میں لگا دیتا ہے تاروں کا ہجوم

جونہی گنتا ہوں میں تعداد، نہیں رہتے ہیں

کیوں کسانوں سے مدد مانگتی پھرتی ہے سپاہ

کہہ دیا ناں، یہاں جل٘اد نہیں رہتے ہیں

گھاس کچلی نہیں جاتی ہے دباؤ سے کبھی

دیر تک ہم کبھی برباد نہیں رہتے ہیں

تم کہ رہگیر سے بچھڑے تو پریشاں ہو ضمیر

ساتھ گھر کے یہاں افراد نہیں رہتے ہیں


ضمیر قیس

ضمیر حسن

No comments:

Post a Comment