Sunday, 5 December 2021

نگار وقت پہ موجود ہر تحریر جھوٹی ہے

 نگارِ وقت پہ موجود ہر تحریر جُھوٹی ہے

کہیں پر تاج جھوٹے ہیں کہیں زنجیر جھوٹی ہے

کہیں بے نور سجدوں کے نشاں روشن ہیں‌ ماتھے پر

کہیں روشن جبیں سے پھوٹتی تنویر جھوٹی ہے

کہیں پر قہقہے نوحہ کناں ہیں‌ زیرِ‌ لب خود بھی

کہیں چہرے پہ اشکوں سے لکھی تحریر جھوٹی ہے

کہیں ‌حق، حلقۂ حلقومِ باطل کا فرستادہ

کہیں ‌حلقوم پر رکھی ہوئی شمشیر جھوٹی ہے

کہیں جھوٹے صحیفے مستند سچے حوالوں سے

کہیں سچی کتابوں کی لکھی تفسیر جھوٹی ہے

کہیں ہاتھوں پہ سیاہی کی لکیریں بھی بنی ریکھا

کہیں ریکھاؤں میں‌ بھی بولتی تقدیر جھوٹی ہے

کہیں سچ کے سنگھاسن پر کوئی سقراط ہے جھوٹا

کہیں ہونٹوں تک آتے زہر کی تاثیر جھوٹی ہے

میں سویا ہی نہیں خیام، یا ہوں نیند میں اب تک

وہ میرے خواب جھوٹے تھے کہ یہ تعبیر جھوٹی ہے


خیام قادری

No comments:

Post a Comment