انجام
کاہنہ
نے مقدس تھڑے پر کھڑے
ایک آواز دی
جرم ثابت ہوا
مجرموں کی سزاؤں کا کالا صحیفہ کھلا
ایک ہرنی چِلاتی ہوئی
اس مقدس تھڑے پر تھی لائی گئی
شور تھا غیض تھا
نفرتوں کے الاؤ کے سائے تلے
شور تھا غیض تھا
ظالمانہ رواجوں کے نعرے لیے
کاہنہ ایک بوڑھی کنواری جو تھی
کاہنہ لذتِ وصل سے کب سے عاری جو تھی
ہاتھ اوپر اٹھا
اور ہرنی کا خوں سب کے چہرے پہ چمکنے لگا
پگڑیوں کا بدن بھی تھرکنے لگا
سب نے عفت کے اشلوک سب پڑھ لیے
سر سبھی نے زمیں پر بھی تھے رکھ دئیے
کاہنہ مسکراتی رہی
چار دن کے لیے گنگناتی رہی
ہرنیوں کی نگاہوں میں ڈر کھل گیا
یوں محبت کو کرموں کا پھل مل گیا
عمران محمود
No comments:
Post a Comment