Sunday, 11 September 2022

محبت کو کرموں کا پھل مل گیا

 انجام


کاہنہ 

نے مقدس تھڑے پر کھڑے

ایک آواز دی

جرم ثابت ہوا

مجرموں کی سزاؤں کا کالا صحیفہ کھلا

ایک ہرنی چِلاتی ہوئی 

اس مقدس تھڑے پر تھی لائی گئی

شور تھا غیض تھا

نفرتوں کے الاؤ کے سائے تلے

شور تھا غیض تھا

ظالمانہ رواجوں کے نعرے لیے

کاہنہ ایک بوڑھی کنواری جو تھی

کاہنہ لذتِ وصل سے کب سے عاری جو تھی

ہاتھ اوپر اٹھا

اور ہرنی کا خوں سب کے چہرے پہ چمکنے لگا

پگڑیوں کا بدن بھی تھرکنے لگا

سب نے عفت کے اشلوک سب پڑھ لیے

سر سبھی نے زمیں پر بھی تھے رکھ دئیے

کاہنہ مسکراتی رہی

چار دن کے لیے گنگناتی رہی

ہرنیوں کی نگاہوں میں ڈر کھل گیا

یوں محبت کو کرموں کا پھل مل گیا


عمران محمود

No comments:

Post a Comment