Sunday, 11 September 2022

دل میں جھانکا تو بہت زخم پرانے نکلے

 ‎دل میں جھانکا تو بہت زخم پرانے نکلے

‎اک فسانے سے کئی اور فسانے نکلے

‎خواب تو خواب تھے آنکھوں میں کہاں رک جاتے

‎وہ دبے پاؤں انہیں بھی تو چرانے نکلے

‎دیکھنا یہ ہے ٹھہرتا ہے کہاں جوش جنوں

‎سر پھرے شہر نگاراں کو جلانے نکلے

‎اپنے گھر سنگ ملامت کی ہوئی ہے بارش

‎بے گناہی کی سند ہم جو دکھانے نکلے

‎کاروبار رسن و دار کی تشہیر ہوئی

‎سرفروشی کے یہاں کتنے بہانے نکلے

‎جن کتابوں پہ سلیقے سے جمی وقت کی گرد

‎ان کتابوں ہی میں یادوں کے خزانے نکلے

‎وہ ستم کیش بہر حال ستم کیش رہے

‎درد سویا بھی نہیں تھا کہ جگانے نکلے

‎ہر طرف شہر میں ویرانی کا عالم ہے رضا

‎زندگی کون کہاں تجھ کو سجانے نکلے


‎رضا امروہوی

No comments:

Post a Comment