Saturday, 11 March 2023

زر کے لیے ہیں عدل کے دربار بک گئے

 زر کے لیے ہیں عدل کے دربار بک گئے 

حرص و ہوس میں حسن کے سردار بک گئے

سچ کا یہاں پہ کوئی خریدار کب ملا 

جھوٹے تھے جتنے شام تک  اخبار بک گئے

اپنی سیاہ بختی کا عالم وہی رہا 

بکنے جہاں گئے تھے وہ بازار بک گئے

سورج خرید لائے تھے ہم جن کے واسطے

سائے ڈھلے جو شام کے غدار بک گئے

ناٹک یہ عشق کا بھی یوں چلتا رہا مگر 

ہر بار کھیل کھیل میں فنکار بک گئے

دشمن کی کوئی چال نہ مجھ کو ہرا سکی

پھر یوں ہوا کہ میرے سبھی یار بک گئے

تیری حسیں کلائی میں کنگن کے واسطے 

تکمیلِ آرزو میں ہیں گھر بار بک گئے

بازار دل میں اس نے لگائی ہیں بولیاں

ہم اس کی اک صدا پہ ہی سرشار بک گئے

مہنگی پڑی ہے ہم سے پرندوں کو دوستی

رہتے تھے جن پہ آج وہ اشجار بک گئے


عثمان ملک

No comments:

Post a Comment