دانۂ گندم
خدا کی زمین پہ قابضین
مافیا، وڈیرے، لٹیرے
رقبے کی پیمائش سے اس لیے
اغماض برتتے ہیں، کہ
قانونی ضابطوں کی پکڑ میں نہ آ سکیں
نظامِ عدل کے منصفین بھی آنکھیں میچے
دشوارئ امتحاں، کی درسگاہوں میں
مضمونِ ریاضی کے مسلۂ فیثا غورث
کو بھی غارت کر دیتے ہیں
الجبرا بھی، جبر کی وحشتوں کی
میزبانی کے لازوال کوڑے برسا کر
قائدۂ تقویم سے غافل رہا
قانونِ اضافت تو شاید، اجرامِ فلکی
کے گردشی مداروں کی پیمائش
کے کام آ سکے اسے
زمینی بکھیڑوں سے کیا غرض
دہقاں کا تقلیدِ ماضی کے آزمودہ
نسخوں پر ہی تکیہ رہا
اپنے ہل کے تیز دھار پھاوڑے سے
سختئ زمیں کے سینے کو کھودتا رہا
زمین برہم ہوئی، خون بہتا گیا، مگر
جزائے سخاوت ایسی کہ دہقاں کو پھر بھی
فصلِ گندم عطا کرنے لگی
جس کے ایک ایک دانے میں شدتِ بھوک کی
بوریاں بھری تھیں
پرواہ کئے بغیر، تاجر جنہیں
منڈیوں میں لے گیا
بھوکے، نادار، چیختے، بِلکتے رہے
جو صرف ایک دانۂ گندم کو ترس گئے تھے
وہی دانۂ گندم، جسے کھانے کی پاداش میں
قبیلِ آدم کو جنت سے رسوائی کے ساتھ
بے دخل ہونا پڑا تھا
اس جہنم زار میں، اسی دانۂ گندم کی
کی سزا آج بھی ہے
قیصر اقبال
No comments:
Post a Comment