ہم کو ہمارے صبر کا خوب صلہ دیا گیا
یعنی دوا نہ دی گئی، درد بڑھا دیا گیا
ان کی مراد ہے یہی ختم نہ ہو یہ تیرگی
جس نے ذرا بڑھائی لو، اس کو بجھا دیا گیا
پھر کہا گیا کہ آپ شوق سے سانس لیجئے
پہلے ہوائے شہر میں، زہر ملا دیا گیا
اہلِ ستم کو رات پھر دعوتِ رقص دی گئی
اور برائے روشنی، شہر جلا دیا گیا
منکرِ کربلا ہوئے، درد میں مبتلا ہوئے
ہم کو بھی اک یزید کا دور دکھا دیا گیا
اقبال اشہر
No comments:
Post a Comment