اس سے پہلے کہ یہ آنسو کہیں ہجرت کر لیں
آ، کسی روز تِرے غم کی ضیافت کر لیں
اس نے جاتے ہوئے پُرسے میں یہی بولا تھا
اب یہ بہتر ہے کہ یادوں پہ قناعت کر لیں
ہم جو تھک ہار کے گاؤں کو کبھی واپس لوٹیں
کیا ہی اچھا ہو گر اس کی زیارت کر لیں
اس کے جنوں میں ہم یعقوب کی مانند
اتنا گریہ ہوں کہ ضائع یہ بصارت کر لیں
ہنستے چہرے دیکھ کے میں کانپ اٹھتا ہوں
کہ کہیں یہ بھی نہ محبت کی حماقت کر لیں
عثمان ملک
No comments:
Post a Comment