Friday, 11 March 2022

سب واجبات پہلے ادا کر دئیے گئے

 سب واجبات پہلے ادا کر دئیے گئے 

سارے اداس لوگ رہا کر دئیے گئے

عالم پناہ حکم کی تعمیل ہو چکی

کاٹے نہیں یہ ہاتھ حنا کر دئیے گئے 

میرٹ کی دھجیاں بھی  اڑائی یہاں گئیں 

انسان تک نہ تھے جو خدا کر دئیے گئے 

جو روشنی کے زعم میں پاگل تھے رات بھر

سارے دئیے سپرد ہوا کر دئیے گئے

برسوں کے بعد جب ملا اس نے کیا سوال 

تم یار میرے عشق میں کیا کر دئیے گئے

تخلیق کار نے کہا کن ہی فقط ملک 

تخلیق جو ہوئے، فنا کر دئیے گئے 


عثمان ملک

No comments:

Post a Comment