سب واجبات پہلے ادا کر دئیے گئے
سارے اداس لوگ رہا کر دئیے گئے
عالم پناہ حکم کی تعمیل ہو چکی
کاٹے نہیں یہ ہاتھ حنا کر دئیے گئے
میرٹ کی دھجیاں بھی اڑائی یہاں گئیں
انسان تک نہ تھے جو خدا کر دئیے گئے
جو روشنی کے زعم میں پاگل تھے رات بھر
سارے دئیے سپرد ہوا کر دئیے گئے
برسوں کے بعد جب ملا اس نے کیا سوال
تم یار میرے عشق میں کیا کر دئیے گئے
تخلیق کار نے کہا کن ہی فقط ملک
تخلیق جو ہوئے، فنا کر دئیے گئے
عثمان ملک
No comments:
Post a Comment