Friday, 11 March 2022

سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

 سانس چلتی رہتی ہے زندگی نہیں ہوتی

بے بسی کے لمحوں میں شاعری نہیں ہوتی

عشق بات کرتا ہے دل طواف کرتا ہے

ارد گرد پھرنے سے عاشقی نہیں ہوتی

زندگی کے صحرا میں ایک چاند کافی ہے

قمقموں کی کثرت سے روشنی نہیں ہوتی

خون کی روانی میں اس قدر محبت ہے

نفرتوں کے حلقوں سے دوستی نہیں ہوتی

خواہشوں کے لشکر سے روز لڑتا رہتا ہوں

یہ بھی اک معمہ ہے دشمنی نہیں ہوتی

تم نے بت بنائے ہیں تم کو ہی مبارک ہوں

بت شکن قبیلے سے آذری نہیں ہوتی

سب خزاں کے پتوں میں گل بہار منظر ہے

خوشبوؤں کے آنے کی مخبری نہیں ہوتی


منظر نقوی

No comments:

Post a Comment