حد درجہ بدعتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے
رسمیں عبادتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے
دھرتی کے اس سورگ کا میں ذکر کیا کروں
مظلوم صورتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے
اس سے زیادہ کچھ نہیں اس عہد کی شناخت
چہروں پہ نفرتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے
دامن بچا کے ان سے نکلنا محال ہے
ہر سُو کثافتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے
شمعیں جلا کے پیار کی نصرت جی اب چلو
دل کی کدورتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے
نصرت چودھری
No comments:
Post a Comment