Wednesday, 6 January 2021

حد درجہ بدعتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

 حد درجہ بدعتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

رسمیں عبادتیں ہیں اندھیرے ہیں راستے

دھرتی کے اس سورگ کا میں ذکر کیا کروں

مظلوم صورتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے

اس سے زیادہ کچھ نہیں اس عہد کی شناخت

چہروں پہ نفرتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے

دامن بچا کے ان سے نکلنا محال ہے

ہر سُو کثافتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے

شمعیں جلا کے پیار کی نصرت جی اب چلو

دل کی کدورتیں ہیں، اندھیرے ہیں راستے


نصرت چودھری

No comments:

Post a Comment