مر کے آیا نہیں زوال مجھے
کر گیا وقت بے مثال مجھے
درد احسان کر گیا مجھ پر
دے گیا ضبط بھی کمال مجھے
کاٹ دی عمر ہجر میں تیرے
کل کے وعدوں پہ یوں نا ٹال مجھے
سانس کے بے رحم سمندر سے
آ کے باہر ذرا نکال مجھے
روتے روتے حیا کے لاشے پر
ہو گئے کتنے ماہ و سال مجھے
ایک مدت سے تیرہ بختی پر
پانا جگنو ہوا محال مجھے
غم کے صحرا میں پیار کا لمحہ
درد میں کر گیا نہال مجھے
تجھ کو معلوم ہی نہیں تابش
راس ہے گردشوں کی چال مجھے
شہزاد تابش
No comments:
Post a Comment