Wednesday, 6 January 2021

مر کے آیا نہیں زوال مجھے

 مر کے آیا نہیں زوال مجھے

کر گیا وقت بے مثال مجھے

درد احسان کر گیا مجھ پر

دے گیا ضبط بھی کمال مجھے

کاٹ دی عمر ہجر میں تیرے

کل کے وعدوں پہ یوں نا ٹال مجھے

سانس کے بے رحم سمندر سے

آ کے باہر ذرا نکال مجھے

روتے روتے حیا کے لاشے پر

ہو گئے کتنے ماہ و سال مجھے

ایک مدت سے تیرہ بختی پر

پانا جگنو ہوا محال مجھے

غم کے صحرا میں پیار کا لمحہ

درد میں کر گیا نہال مجھے

تجھ کو معلوم ہی نہیں تابش

راس ہے گردشوں کی چال مجھے


شہزاد تابش

No comments:

Post a Comment