Wednesday, 6 January 2021

ریاست کی میت تعفن زدہ ہے

گِدھ


ریاست کی میّت تعفّن زدہ ہے

یہ بہروپیے گِدھ

لہو کی مہک سے اُمڈتے چلے آ رہے ہیں

ازل سے یہ مُردار کھانے کے عادی

ابد تک یونہی استخواں نوچتے نوچتے

ایک دُوجے کے حصے پہ نظریں جمائے

منافق، ریاکار، بے حِس

زمانے پہ ہنستے چلے جا رہے ہیں


رخشندہ بتول

No comments:

Post a Comment