Sunday, 16 January 2022

خود فریبی کب تک اپنے آپ کو دھوکا دیتی رہو گی

خود فریبی


کب تک 

اپنی آنکھیں جھکا کر چلتی رہو گی

کب تک

اپنے دل کے دروازے پر دستک نہ دو گی

کب تک

اپنی پلکوں پر جھوٹے خواب سجائے رکھو گی

بولو کب تک

آخر کب تک

حادثوں کو تقدیر سمجھ کر

چپکے چپکے

احساسات کی آگ میں آٹھوں پہر جلتی رہو گی

اپنے تازہ زخموں پر ہنس ہنس کر مسکراتی رہو گی

کیا صدیوں تک یوں ہی ہوتا رہے گا

بولو کب تک

اب تو بولو

کب تک

اپنے آپ کو دھوکا دیتی رہو گی


نصرت چودھری

No comments:

Post a Comment